Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
187 - 414
 (۴۸)تختِ بلقیس کس طرح آیا
ملکہ سبا ''بلقیس''کا تختِ شاہی اَسّی گز لمبا اور چالیس گز چوڑا تھا ،یہ سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے آراستہ تھا، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور اُس کے ہدایا و تحائف کو ٹھکرا دیا اور اُس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہوجائے تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی اُس کا تخت میرے دربار میں آجائے چنانچہ آپ نے اپنے دربار میں درباریوں سے یہ فرمایا:۔
قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسْلِمِیۡنَ ﴿38﴾قَالَ عِفْرِیۡتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِکَ ۚ وَ اِنِّیۡ عَلَیۡہِ لَقَوِیٌّ اَمِیۡنٌ ﴿39﴾ (پ 19،النمل: 38،39)
ترجمہ کنزالایمان:سلیمان نے فرمایا اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جن بولا میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔ 

جنّ کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں آجائے۔ یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت ''آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسم اعظم جانتے تھے اور ایک باکرامت ولی تھے۔ انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔
قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡکَ طَرْفُکَ ؕ 

                        (پ19،النمل:40)
Flag Counter