Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
175 - 414
پھر جاؤ پیٹھ دے کر۔

چنانچہ اس کے بعد آپ ایک کلہاڑی لے کر بت خانہ میں تشریف لے گئے اور دیکھا کہ اس میں چھوٹے بڑے بہت سے بت ہیں اور دروازہ کے سامنے ایک بہت بڑا بت ہے۔ ان جھوٹے معبودوں کو دیکھ کر توحید ِ الٰہی کے جذبہ سے آپ جلال میں آگئے اور کلہاڑی سے مار مار کر بتوں کو چکنا چور کر ڈالا اور سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور کلہاڑی اُس کے کندھے پر رکھ کر آپ بت خانہ سے باہر چلے آئے۔ قوم کے لوگ جب میلہ سے واپس آ کر بت پوجنے اور پرشاد کھانے کے لئے بت خانہ میں گُھسے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اُن کے دیوتا ٹوٹے پھوٹے پڑے ہوئے ہیں۔ ایک دم سب بوکھلا گئے اور شور مچا کر چلانے لگے۔
مَنۡ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَاۤ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿59﴾ (پ17،الانبیاء:59)
ترجمہ کنزالایمان:۔ کس نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا بیشک وہ ظالم ہے۔

تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو جس کا نام ''ابراہیم''ہے اس کی زبان سے ان بتوں کو برا بھلا کہتے ہوئے سنا ہے۔ قوم نے کہا کہ اس جوان کو لوگوں کے سامنے لاؤ۔ شاید لوگ گواہی دیں کہ اُس نے بتوں کو توڑا ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بلائے گئے۔ تو قوم کے لوگوں نے پوچھا کہ اے ابراہیم!کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اس بڑے بت نے کیا ہو گا کیونکہ کلہاڑی اس کے کاندھے پر ہے۔ آخر تم لوگ اپنے ان ٹوٹے پھوٹے خداؤں ہی سے کیوں نہیں پوچھتے کہ کس نے تمہیں توڑا ہے؟ اگر یہ بت بول سکتے ہوں تو ان ہی سے پوچھ لو۔ وہ خود بتا دیں کہ کس نے انہیں توڑا ہے۔ قوم نے سرجھکا کر کہا کہ اے ابراہیم! ہم ان خداؤں سے کیا اور کیسے پوچھیں؟ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ بت بول نہیں سکتے۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جلال میں تڑپ کر فرمایا:۔
Flag Counter