Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
174 - 414
عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ''مریم''حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن سے سینکڑوں برس بعد کو ہوئی ہیں۔
    (صاوی ،ج ۳، ص ۴۶، ۴۵)
درسِ ہدایت:۔(۱)اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے تو دشمن سے وہ کام کرالیتا ہے جو دوست بھی نہیں کرسکتے۔ دیکھ لیجئے کہ فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرعون ہی کے گھر میں ہوئی۔

(۲)یہ بھی معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کی حفاظت فرماتا ہے تو کوئی بھی اُس کو نہ ضائع کرسکتا ہے نہ ضرر پہنچا سکتا ہے۔ غور کرو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کس طرح بہ حفاظت، صحت و سلامتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پھر اُن کی ماں کی گود میں پہنچا دیا۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
 (۴۴)  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے معاملہ میں پہلے تو اپنی قوم سے مناظرہ کر کے حق کو ظاہر کردیا۔ مگر لوگوں نے حق کو قبول نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ کل ہماری عید کا دن ہے اور ہمارا ایک بہت بڑا میلہ لگے گا، وہاں آپ چل کر دیکھیں کہ ہمارے دین میں کیا لطف اور کیسی بہار ہے۔

اس قوم کا یہ دستور تھا کہ سالانہ ان لوگوں کا ایک میلہ لگتا تھا۔ لوگ ایک جنگل میں جمع ہوتے اور دن بھر لہو و لعب میں مشغول رہ کر شام کو بت خانہ میں جا کر بتوں کی پوجا کرتے اور بتوں کے چڑھاوے، مٹھائیوں اور کھانوں کو پرشاد کے طور پر کھاتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم کی دعوت پر تھوڑی دور تو میلہ کی طرف چلے لیکن پھر اپنی بیماری کا عذر کر کے واپس چلے آئے اور قوم کے لوگ میلہ میں چلے گئے۔ پھر جو میلہ میں نہیں گئے آپ نے اُن لوگوں سے صاف صاف کہہ دیا۔
وَتَاللہِ لَاَکِیۡدَنَّ اَصْنَامَکُمۡ بَعْدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدْبِرِیۡنَ ﴿57﴾ (پ17،الانبیاء:57)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم
Flag Counter