Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
176 - 414
قَالَ اَفَتَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَنۡفَعُکُمْ شَیْـًٔا وَّلَا یَضُرُّکُمْ ﴿ؕ66﴾اُفٍّ لَّکُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوۡنَ ﴿67﴾ (پ 17،الانبیاء:66۔67)
ترجمہ کنزالایمان:۔ کہاتو کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے اور نہ نقصان پہنچائے۔ تف ہے تم پر اور ان بتوں پر جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔

آپ کی اس حق گوئی کا نعرہ سن کر قوم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بلکہ شور مچایا اور چلا چلا کر بت پرستوں کو بلایا۔
حَرِّقُوۡہُ وَ انۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ فٰعِلِیۡنَ ﴿68﴾ (پ17،الانبیاء:68)
ترجمہ کنزالایمان:۔ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کرنا ہے۔

چنانچہ ظالموں نے اتنا لمبا چوڑا آگ کا الاؤ جلایا کہ اس آگ کے شعلے اتنے بلند ہو رہے تھے کہ اس کے اوپر سے کوئی پرندہ بھی اُڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔ پھر آپ کو ننگے بدن کر کے ان ظلم و ستم کے مجسموں نے ایک گوپھن کے ذریعے اس آگ میں پھینک دیا اور اپنے اس خیال میں مگن تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جل کر راکھ ہو گئے ہوں گے، مگر احکم الحاکمین کا فرمان اس آگ کے لئے یہ صادر ہو گیا کہ
قُلْنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبْرٰہِیۡمَ ﴿ۙ69﴾ (پ17،الانبیاء :69)
ترجمہ کنزالایمان:۔ ہم نے فرمایا اے آگ ہوجا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر۔

چنانچہ نتیجہ یہ ہوا جس کو قرآن نے اپنے قاہرانہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ
وَاَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَخْسَرِیۡنَ ﴿ۚ70﴾ (پ17،الانبیاء:70)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انہیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا۔ 

    آگ بجھ گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ اور سلامت رہ کر نکل آئے اور ظالم
Flag Counter