| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
تھی۔ یہ صندوق دریائے نیل سے بہتے ہوئے نہر میں چلا گیا۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیوی ''آسیہ'' دونوں محل میں بیٹھے ہوئے نہر کا نظارہ کررہے تھے۔ جب ان دونوں نے صندوق کو دیکھا تو خدام کو حکم دیا کہ اس صندوق کو نکال کر محل میں لائیں۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں سے ایک نہایت خوبصورت بچہ نکلا جس کے چہرہ پر حسن و جمال کے ساتھ ساتھ انوار ِ نبوت کی تجلیات چمک رہی تھیں۔ فرعون اور آسیہ دونوں اس بچے کو دیکھ کر دل و جان سے اس پر قربان ہونے لگے اور آسیہ نے فرعون سے کہا کہ:۔
قُرَّتُ عَیۡنٍ لِّیۡ وَلَکَ ؕ لَا تَقْتُلُوۡہُ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّ ہُمْ لَایَشْعُرُوۡنَ ﴿9﴾
(پ 20،القصص:9)ترجمہ کنزالایمان:۔یہ بچہ میری اورتیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ بے خبر تھے۔ اس پورے واقعہ کو قرآن مجید نے سورہ طٰہٰ میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ترجمہ یہ ہے:۔ ''ترجمہ کنزالایمان: جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھا لے جو میر ادشمن اور اس کا دشمن ہے۔ میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی اور اس لئے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔ چونکہ ابھی حضرت موسیٰ علیہ السلام شیر خوار بچے تھے۔ اس لئے ان کو دودھ پلانے والی کسی عورت کی تلاش ہوئی مگر آپ کسی عورت کا دودھ پیتے ہی نہیں تھے۔ ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ بے حد پریشان تھیں کہ نامعلوم میرا بچہ کہاں اور کس حال میں ہوگا؟ پریشان ہو کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن ''مریم'' کو جستجوئے حال کے لئے فرعون کے محل میں بھیجا۔ اور مریم نے جب یہ حال دیکھا کہ بچہ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتا تو انہوں نے فرعون سے