Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
171 - 414
حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے اور ان کو ملنے والی نعمتوں کا مختصر اور اجمالی تذکرہ قرآن مجید کی سورہ مریم میں ہے:۔
وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿٭ۙ56﴾وَّرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا ﴿57﴾اُولٰۤئِکَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنۡ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ  (پ16،مریم:56 ۔ 58)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے والوں میں سے آدم کی اولاد سے۔ 

درسِ ہدایت:۔حضرت ادریس علیہ السلام کے واقعہ سے یہ ہدایت کا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسولوں اور نبیوں پر کتنا بڑا فضل و کرم اور انعام و اکرام ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کے لئے واجب الایمان اور لازم العمل ہے کہ خداوند قدوس کے رسولوں اور نبیوں کی تعظیم و تکریم اور ان کا ادب و احترام رکھے اور ان کے ذکرِ جمیل سے خیر و برکت حاصل کرتا رہے۔ قرآن مجید کی مقدس آیتوں اور حدیثوں میں بار بار خدا کے ان برگزیدہ رسولوں اور نبیوں کا ذکر ِ جمیل اس بات کی دلیل ہے کہ ان بزرگوں کا ذکر ِ خیر اور تذکرہ موجب ِ رحمت و باعث خیر و برکت ہے۔
 (واللہ تعالیٰ اعلم)
 (۴۳)   دریا کی موجوں سے ماں کی گود میں
فرعون کو نجومیوں نے یہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہو گا جو تیری سلطنت کی بربادی کا سبب ہو گا۔ اس لئے فرعون نے اپنی فوجوں کو یہ حکم دے دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اسی مصیبت و آفت کے دور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو ان کی والدہ نے فرعون کے خوف سے ان کو ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو مضبوطی سے بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ دریا سے نکل کر ایک نہر فرعون کے محل کے نیچے بہتی
Flag Counter