آپ کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اُٹھا لیا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب ِ معراج حضرت ادریس علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر دیکھا۔ حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے مروی ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا کہ موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں، کیسا ہوتا ہے؟ تم میری روح قبض کر کے دکھاؤ۔ ملک الموت نے اس حکم کی تعمیل کی اور روح قبض کر کے اُسی وقت آپ کی طرف لوٹا دی اور آپ زندہ ہو گئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اب مجھے جہنم دکھاؤ تاکہ خوف ِ الٰہی زیادہ ہو۔ چنانچہ یہ بھی کیا گیا جہنم کو دیکھ کر آپ نے داروغہ جہنم سے فرمایا کہ دروازہ کھولو، میں اس دروازے سے گزرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پر سے گزرے۔ پھر آپ نے ملک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنت دکھاؤ، وہ آپ کو جنت میں لے گئے۔ آپ دروازوں کو کھلوا کر جنت میں داخل ہوئے۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد ملک الموت نے کہا کہ اب آپ اپنے مقام پر تشریف لے چلئے۔ آپ نے فرمایا کہ اب میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ