| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
والی تھی۔ اللہ اکبر!سچ ہے خداوند ِ قدوس جس کو نبوت کے شرف سے نوازتا ہے یقینا اس کی ولادت نہایت ہی پاک اور طیب و طاہر ہوتی ہے اور بچپن ہی سے اس کی نبوت کے اعلیٰ آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ (۲)سورہ مریم کے اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کا پوراذکر میلاد شریف میں بیان فرمایا ہے اورآخر میں سلام کا ذکر ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا میلاد پڑھ کر آخر میں صلوٰۃ وسلام پڑھنا یہ اللہ تعالیٰ کی مقدس سنت ہے اوریہی اہل سنت وجماعت کا مبارک عمل ہے ۔ (۳)حضرت عیسٰی علیہ السلام کی مذکورہ بالا تقریر سے معلوم ہوا کہ نماز ،زکوٰۃ اورماں باپ کے ساتھ حسن سلوک یہ ایسے فرائض ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شریعت میں بھی فرض تھے ۔
(۴۲)حضرت ادریس علیہ السلام
آپ کا نام ''اخنوخ''ہے۔ آپ حضرت نوح علیہ السلام کے والد کے دادا ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں۔ آپ کے والد حضرت شیث بن آدم علیہما السلام ہیں۔ سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں۔ کپڑوں کے سینے اور سلے ہوئے کپڑے پہننے کی ابتداء بھی آپ ہی سے ہوئی۔ اس سے پہلے لوگ جانوروں کی کھالیں پہنتے تھے۔ سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے، ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے اور علم نجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں۔ یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تیس صحیفے نازل فرمائے۔ اور آپ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کا بکثرت درس دیا کرتے تھے۔ اس لئے آپ کا لقب ''ادریس'' ہو گیا۔ اور آپ کا یہ لقب اس قدر مشہور ہو گیا کہ بہت سے لوگوں کو آپ کا اصلی نام معلوم ہی نہیں۔ قرآن مجید میں آپ کا نام ''ادریس'' ہی ذکر کیا گیا ہے۔