| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
بھی پیش کش کی تو حضرت ذوالقرنین نے فرمایا کہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہے۔ بس تم لوگ جسمانی محنت سے میری مدد کرو۔ چنانچہ آپ نے دونوں پہاڑوں کے درمیان بنیاد کھدوائی۔ جب پانی نکل آیا تو اس پر پگھلائے تانبے کے گارے سے پتھر جمائے گئے اور لوہے کے تختے نیچے اوپر چن کر اُن کے درمیان میں لکڑی اور کوئلہ بھروادیا۔ اور اُس میں آگ لگوادی۔ اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی۔ پھر پگھلایا ہوا تانبا دیوار میں پلا دیا گیا جو سب مل کر بہت ہی مضبوط اور نہایت مستحکم دیوار بن گئی۔
( خزائن العرفان،ص۵۴۵۔۵۴۷،پ۱۶، الکہف: ۸۶تا ۹۸)
قرآن مجید کی سورہ کہف میں
حَتّٰی اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ
سے
مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا
پہلے سفر کا ذکر ہے پھر
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا
سے خُبْرًا تک دوسرے سفر کا تذکرہ ہے اور
ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا
سے
وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا
تک تیسرے سفر کی روداد ہے۔
سدِسکندری کب ٹوٹے گی؟:۔
حدیث شریف میں ہے کہ یاجوج وماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر جب محنت کرتے کرتے اس کو توڑنے کے قریب ہوجاتے ہیں تو ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ اب چلو باقی کو کل توڑ ڈالیں گے۔ دوسرے دن جب وہ لوگ آتے ہیں تو خدا کے حکم سے وہ دیوار پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے۔ جب اس دیوار کے ٹوٹنے کا وقت آئے گا تو ان میں سے کوئی کہے گا کہ اب چلو۔ ان شاء اللہ تعالیٰ کل اس دیوار کو توڑ ڈالیں گے۔ ان لوگوں کے ان شاء اللہ تعالیٰ کہنے کی برکت اور اس کلمہ کا یہ ثمرہ ہوگا کہ دوسرے دن دیوار ٹوٹ جائے گی۔ یہ قیامت قریب ہونے کا وقت ہو گا۔ دیوار ٹوٹنے کے بعد یاجوج وما جوج نکل پڑیں گے اور زمین میں ہر طرف فتنہ و فساد اور قتل و غارت کریں گے۔ چشموں اور تالابوں کا پانی پی ڈالیں گے اور جانوروں اور درختوں کو کھا ڈالیں گے۔ زمین