Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
164 - 414
حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کردیا۔ چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے۔

دوسرا سفر:۔پھر آپ نے مشرق کا سفر فرمایا یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہونے کی جگہ پہنچے تو یہ دیکھا کہ وہاں ایک ایسی قوم ہے جن کے پاس کوئی عمارت اور مکانات نہیں ہیں۔ ان لوگوں کا یہ حال تھا کہ سورج طلوع ہونے کے وقت یہ لوگ زمین کی غاروں میں چھپ جاتے تھے۔ اور سورج ڈھل جانے کے بعد غاروں سے نکل کر اپنی روزی کی تلاش میں لگ جاتے تھے۔ یہ لوگ قوم ''منسک'' کہلاتے تھے۔ حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے مقابلہ میں بھی لشکر آرائی کی اور جو لوگ ایمان لائے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا اور جو اپنے کفر پر اڑے رہے ان کو تہ تیغ کردیا۔

تیسرا سفر:۔پھر آپ نے شمال کی جانب سفر فرمایا یہاں تک کہ ''سدین''(دو پہاڑوں کے درمیان)میں پہنچے تو وہاں کی آبادی کی عجیب و غریب زبان تھی۔ ان لوگوں کے ساتھ اشاروں سے بمشکل بات چیت کی جا سکتی تھی۔ ان لوگوں نے حضرت ذوالقرنین سے یاجوج ما جوج کے مظالم کی شکایت کی اور آپ کی مدد کے طالب ہوئے۔

یاجوج و ماجوج:۔یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک فسادی گروہ ہے۔ اور ان لوگوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔ یہ لوگ بلا کے جنگجو خونخوار اور بالکل ہی وحشی اور جنگلی ہیں جو بالکل جانوروں کی طرح رہتے ہیں۔ موسم ربیع میں یہ لوگ اپنے غاروں سے نکل کر تمام کھیتیاں اور سبزیاں کھا جاتے تھے۔ اور خشک چیزوں کو لاد کر لے جاتے تھے۔ آدمیوں اور جنگلی جانوروں یہاں تک کہ سانپ، بچھو، گرگٹ اور ہر چھوٹے بڑے جانور کو کھا جاتے تھے۔

سد ِ سکندری:۔حضرت ذوالقرنین سے لوگوں نے فریاد کی کہ آپ ہمیں یاجوج وماجوج کے شر اور اُن کی ایذاء رسانیوں سے بچایئے اور ان لوگوں نے ان کے عوض کچھ مال دینے کی