Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
166 - 414
پر ہر جگہوں میں پھیل جائیں گے۔ مگر مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس ان تینوں شہروں میں یہ داخل نہ ہو سکیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اُن لوگوں کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہوجائیں گے اور یہ سب ہلاک ہوجائیں گے۔ قرآن مجید میں ہے؛۔
حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتْ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَ ہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ ﴿96﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے۔(پ17،الانبیاء:96)
 (۴۰)شجرمریم رضی اللہ عنہااور نہر ِ جبریل علیہ السلام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت بی بی مریم کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ جب ولادت کا وقت آیا تو حضرت بی بی مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا آبادی سے کچھ دور ایک کھجور کے سوکھے درخت کے نیچے تنہائی میں بیٹھ گئیں اور اُسی درخت کے نیچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ چونکہ آپ بغیر باپ کے کنواری مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے۔ اس لئے حضرت مریم بڑی فکر مند اور بے حد اداس تھیں اور بدگوئی و طعنہ زنی کے خوف سے بستی میں نہیں آرہی تھیں۔ اور ایک ایسی سنسان زمین میں کھجور کے سوکھے درخت کے نیچے بیٹھی ہوئی تھیں کہ جہاں کھانے پینے کا کوئی سامان نہیں تھا۔ ناگہاں حضرت جبریل علیہ السلام اُتر پڑے اور اپنی ایڑی زمین پر مار کر ایک نہر جاری کردی اور اچانک کھجور کا سوکھا درخت ہرا بھرا ہو کر پختہ پھل لایا۔ اور حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پکار کر اُن سے یوں کلام فرمایا:۔
فَنَادٰىہَا مِنۡ تَحْتِہَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیۡ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا ﴿24﴾وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا ﴿۫25﴾ فَکُلِیۡ وَاشْرَبِیۡ وَقَرِّیۡ عَیۡنًا ۚ (پ16،مریم،24۔26)
Flag Counter