| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام روئے زمین کی بادشاہی عطا فرمائی تھی۔ دنیا میں کل چار بادشاہ ایسے ہوئے ہیں جن کو پوری زمین کی پوری بادشاہی ملی۔ ان میں دو مومنین تھے اور دو کافر۔ مومن تو حضرت سلیمان علیہ السلام اور ذوالقرنین ہیں اور کافر ایک بخت نصر اور دوسرا نمرود ہے۔ اور تمام روئے زمین کے ایک پانچویں بادشاہ اس امت میں ہونے والے ہیں جن کا اسم گرامی حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ ہے۔
( صاوی، ج۴،ص۱۲۱۶،پ۱۶،الکہف:۸۳)
ذوالقرنین کے تین سفر:۔قرآن مجید میں حضرت ذوالقرنین کے تین سفروں کا حال بیان ہوا ہے جو سورہ کہف میں ہے۔ ہم قرآن مجید ہی سے ان تینوں سفروں کا حال تحریر کرتے ہیں، جن کی روداد بہت ہی عجیب اور عبرت خیز ہے۔ پہلا سفر:۔حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص آب ِ حیات کے چشمہ سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے وہ تو آب ِ حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا، وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے وہ سب منزلیں طے کر کے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی۔ ا س کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا۔ یہ قوم ''ناسک''کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اور جنگجو ہیں۔ تو