Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
162 - 414
اُن کے نور جمال سے ملاقات نہیں کرسکا ہے تو میری طرف سے اُن پر جب جب بادِ صبا چلے ستھرا سلام ہو کہ پاکیزگی کے ساتھ بادِ صبا اس کو پہنچائے۔

حضرت خضر علیہ السلام حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں۔
 (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۸،پ ۱۵، الکہف:۶۵)
 (۳۹)ذوالقرنین اور یاجوج وماجوج
ذوالقرنین کا نام ''سکندر''ہے۔ یہ حضرت خضر علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام ان کے وزیر اور جنگلوں میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور یہ ایک بڑھیا کے اکلوتے فرزند ہیں۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر کے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ صحیح قول یہی ہے کہ یہ نبی نہیں ہیں بلکہ ایک بندئہ صالح ہیں جو ولایت کے شرف سے سرفراز ہیں۔
     (صاوی،ج۴،ص۱۲۱۴،پ۱۶، الکہف:۸۳)
ذوالقرنین کیوں کہلائے؟:۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ ذوالقرنین (دو سینگوں والے)کے لقب سے اس لئے مشہور ہو گئے کہ انہوں نے دنیا کے دو سینگوں یعنی دونوں کناروں کا چکر لگایا تھا۔ اور بعض کا قول ہے کہ ان کے دور میں لوگوں کے دو قرن ختم ہو گئے سو برس کا ایک قرن ہوتا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے دو گیسو تھے اس لئے ذوالقرنین کہلاتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک قول ہے کہ ان کے تاج پر دو سینگ بنے ہوئے تھے۔ اور بعض اس کے قائل ہیں کہ خود ان کے سر پر دونوں طرف ابھار تھا جو سینگ جیسا نظر آتا تھا اور بعضوں نے یہ وجہ بتائی کہ چونکہ ان کے باپ اور ماں نجیب الطرفین اور شریف زادہ تھے اس لئے لوگ ان کو ذوالقرنین کہنے لگے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 ( مدارک التنزیل، ج۳،ص۲۲۲،پ۱۶، الکہف:۸۳)
Flag Counter