Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
160 - 414
کی بداخلاقی سے بیزار تھے ہی ،آپ کو غصہ آگیا، برداشت نہ کرسکے اور یہ فرمایا:۔
لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیۡہِ اَجْرًا ﴿77﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے۔(پ16،الکہف:77)

یہ سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے کہہ دیا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے اور جن چیزوں کو دیکھ کر آپ صبر نہ کرسکے اُن کا راز میں آپ کو بتادوں گا۔ سنئے جو کشتی میں نے پھاڑ ڈالی وہ چند مسکینوں کی تھی جس کی آمدنی سے وہ لوگ گزر بسر کرتے تھے اور آگے ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا جو سالم اور اچھی کشتیوں کو چھین لیا کرتا تھا اور عیب دار کشتیوں کو چھوڑ دیا کرتا تھا تو میں نے قصداً ایک تختہ نکال کر اُس کشتی کو عیب دار کردیا تاکہ ظالم بادشاہ کے غضب سے محفوظ رہے۔ اور جس لڑکے کو میں نے قتل کردیا اس کے والدین بہت نیک اور صالح تھے۔ اور یہ لڑکا پیدائشی کافر تھا اور والدین اس لڑکے سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اُس کی ہر خواہش پوری کرتے تھے تو ہمیں یہ خوف و خطرہ نظر آیا کہ وہ لڑکا کہیں اپنے والدین کو کفر میں نہ مبتلا کردے۔ اس لئے میں نے اُس لڑکے کو قتل کر کے اُس کے والدین کو کفر سے بچا لیا۔ اب اُس کے والدین صبر کریں گے تو اللہ تعالیٰ اُس لڑکے کے بدلے میں اس کے والدین کو ایک بیٹی عطا فرمائے گا، جو ایک نبی سے بیاہی جائے گی اور اس کے شکم سے ایک نبی پیدا ہو گا جو ایک امت کو ہدایت کریگا۔ اور گرتی ہوئی دیوار کو سیدھی کرنے کا راز یہ تھا کہ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان دونوں کا باپ ایک صالح اور نیک آدمی تھا۔ اگر ابھی یہ دیوار گرجاتی تو ان یتیموں کا خزانہ گاؤں والے لے لیتے۔ اس لئے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں یتیم بچے جوان ہو کر اپنا خزانہ نکال لیں ،اس لئے ابھی میں نے دیوار کو گرنے نہیں دیا۔ یہ خداوند تعالیٰ کی ان بچوں پر مہربانی ہے اور اے موسیٰ علیہ السلام!آپ یقین و اطمینان رکھیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنی طرف سے نہیں کیا ہے بلکہ میں نے یہ سب کچھ
Flag Counter