| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ترجمہ کنزالایمان:۔کیا تم نے اسے اس لئے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بُری بات کی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے کہہ نہیں دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے بھول کر سوال کردیا۔ لہٰذا آپ میری بھول پر گرفت نہ کیجئے اور میرے کام میں مشکل نہ ڈالئے۔ پھر یہ حضرات کچھ دور آگے کو چلے۔ تو حضرت خضر علیہ السلام نے ایک نابالغ بچے کو دیکھا جو اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے گلا دبا کر اور زمین پر پٹک کر اُس بچے کو قتل کرڈالا یہ ہوش رُبا خونی منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام میں صبر کی تاب نہ رہی اور آپ نے ذرا سخت لہجے میں حضرت خضر علیہ السلام سے کہہ دیا:۔
اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفْسٍ ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْـًٔا نُّکْرًا ﴿74﴾ (پ15،الکہف:74)
ترجمہ کنزالایمان:۔ موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان بے کسی جان کے بدلے قتل کردی بیشک تم نے بہت بری بات کی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے پھر یہی جواب دیا کہ کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا اب اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ میرے ساتھ نہ رہیے گا۔ اس میں شک نہیں کہ میری طرف سے آپ کا عذر پورا ہوچکا ہے۔ پھر اس کے بعد ان حضرات نے ساتھ ساتھ چلنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ ایک گاؤں میں پہنچے اور گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا۔ مگر گاؤں والوں میں سے کسی نے بھی ان صالحین کی دعوت نہیں کی۔ پھر ان دونوں نے گاؤں میں ایک گرتی ہوئی دیوار پائی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اسم اعظم پڑھ کر دیوار سیدھی کردی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام گاؤں والوں