ہوئے بیٹھے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کو سلام کیا تو انہوں نے تعجب سے فرمایا کہ اس زمین میں سلام کرنے والے کہاں سے آگئے؟ پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں ''موسیٰ'' ہوں۔ تو انہوں نے دریافت کیا کہ کون موسیٰ؟ کیا آپ بنی اسرائیل کے موسیٰ ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ جی ہاں تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ اے موسیٰ! مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے۔ اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا علم دیا جس کو میں نہیں جانتا۔ مطلب یہ تھا کہ میں علم ''اسرار'' جانتا ہوں۔ جس کا آپ کو علم نہیں اور آپ ''علم الشرائع'' جانتے ہیں جس کو میں نہیں جانتا۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے خضر! کیا آپ مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے پیچھے پیچھے چلوں تاکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علوم دیئے ہیں آپ کچھ مجھے بھی تعلیم دیں۔ تو حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ان شاء اللہ تعالیٰ صبر کروں گا۔ اور کبھی بھی کوئی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ آپ مجھ سے کسی بات کے متعلق کوئی سوال نہ کریں۔ یہاں تک کہ میں خود آپ کو بتا دوں۔ غرض اس عہد و معاہدہ کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ اور یوشع بن نون علیہما السلام کو اپنے ساتھ لے کر سمندر کے کنارے کنارے چلنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ ایک کشتی پر نظر پڑی۔ اور کشتی والوں نے ان تینوں صاحبان کو کشتی پر سوار کرلیا اور کشتی کا کرایہ بھی نہیں مانگا۔ جب یہ لوگ کشتی میں بیٹھ گئے تو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے جَھولے میں سے کلہاڑی نکالی اور کشتی کو پھاڑ کر اُس کا ایک تختہ نکال کر سمندر میں پھینک دیا۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کرسکے اور حضرت خضر علیہ السلام سے یہ سوال کربیٹھے کہ:۔