| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
حضرت موسیٰ علیہ السلام: اگر تیرے بندوں میں کوئی مجھ سے زیادہ علم والا ہو تو مجھے اس کا پتا
بتا دے؟
اللہ تعالیٰ : ''خضر''تم سے زیادہ علم والے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام: میں انہیں کہاں تلاش کروں؟
اللہ تعالیٰ : ساحل سمندر پر چٹان کے پاس۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام: میں وہاں کیسے اور کس طرح پہنچوں؟
اللہ تعالیٰ : تم ایک ٹوکری میں ایک مچھلی لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم
ہوجائے بس وہیں خضر سے تمہاری ملاقات ہو گی۔( مدارک التنزیل،ج۳،ص۲۱۷،پ۱۵، الکہف:۶۰)
اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم اور شاگرد حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف علیہم السلام کو اپنا رفیق سفر بنا کر ''مجمع البحرین'' کا سفر فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چلتے چلتے جب بہت دور چلے گئے تو ایک جگہ سو گئے۔ اُسی جگہ مچھلی ٹوکری میں سے تڑپ کر سمندر میں کود گئی۔ اور جس جگہ پانی میں ڈوبی وہاں پانی میں ایک سوراخ بن گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نیند سے بیدار ہو کر چلنے لگے۔ جب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو آپ نے اپنے شاگرد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سے مچھلی طلب فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ چٹان کے پاس جہاں آپ سو گئے تھے ،مچھلی کود کر سمندر میں چلی گئی اور میں آپ کو بتانا بھول گیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو اس جگہ کی تلاش تھی۔ بہرحال پھر آپ اپنے قدموں کے نشانات کو تلاش کرتے ہوئے اُس جگہ پہنچ گئے جہاں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کی جگہ بتائی گئی تھی۔
وہاں پہنچ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک بزرگ کپڑوں میں لپٹے