Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
148 - 414
لگتا، بلکہ شدتِ غم سے دل پھٹ جاتا۔ مگر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام خدا کا یہ حکم سن کر نہ فکر مند ہوئے، نہ ایک لمحہ کے لئے سوچ بچار میں پڑے، نہ رنج و غم سے نڈھال ہوئے بلکہ فوراً ہی خدا کا حکم بجا لانے کے لئے بیوی اور بچے کو لے کر ملک شام سے سرزمین مکہ میں چلے گئے اور وہاں بیوی بچے کو چھوڑ کر ملک شام چلے آئے۔ اللہ اکبر! اس جذبہ اطاعت شعاری اور جوشِ فرماں برداری پر ہماری جاں قربان!

(۲)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور اُن کی اولاد کے لئے نہایت ہی محبت بھرے انداز میں اُن کی مقبولیت اور رزق کے لئے جو دعائیں مانگیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی اولاد سے محبت کرنا اور اُن کے لئے دعائیں مانگنا یہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا مبارک طریقہ ہے جس پر ہم سب مسلمانوں کو عمل کرنا ہماری صلاح و فلاح دارین کا ذریعہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (۳۶)ابولہب کی بیوی کورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نظرنہ آئے
جب سورۃ
''تَبَّتْ یَدَا''
نازل ہوئی اور ابو لہب اور اُس کی بیوی ''اُم جمیل'' کی اس سورۃ میں مذمت اُتری تو ابو لہب کی بیوی اُمّ جمیل غصہ میں آپے سے باہر ہو گئی۔ اور ایک بہت بڑا پتھر لے کر وہ حرم کعبہ میں گئی۔ اُس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تلاوتِ قرآن فرمارہے تھے اور قریب ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ''اُمّ جمیل''بڑبڑاتی ہوئی آئی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرتی ہوئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور مارے غصہ کے منہ میں جھاگ بھرتے ہوئے کہنے لگی کہ بتاؤ تمہارے رسول کہاں ہیں؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے میری اور میرے شوہر کی ہجو کی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے رسول شاعر نہیں ہیں کہ کسی کی ہجو کریں۔ پھر وہ غیظ و غضب میں بھری ہوئی پورے حرم کعبہ میں چکر لگاتی پھری اور بکتی جھکتی
Flag Counter