| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ڈھونڈتی پھری۔ مگر جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکی تو بڑبڑاتی ہوئی حرم سے باہر جانے لگی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی کہ میں تمہارے رسول کا سر کچلنے کے لئے یہ پتھر لے کر آئی تھی مگر افسوس کہ وہ مجھے نہیں ملے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے وہ کئی بار گزری مگر میرے اور اُس کے درمیان ایک فرشتہ اس طرح حائل ہو گیا کہ آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود وہ مجھے نہ دیکھ سکی۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
(خزائن العرفان، ص ۵۱۵،)
وَ اِذَا قَرَاۡتَ الْقُرۡاٰنَ جَعَلْنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَایُؤْمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوۡرًا ﴿ۙ45﴾
(پ15، بنی اسرائیل:45)ترجمہ کنزالایمان:۔اور اے محبوب تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں کہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کردیا۔ درسِ ہدایت:۔اُمّ جمیل انکھیاری ہوتے ہوئے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ہی سے تلاش کرتی ہوئی بار بار گزری مگر وہ آپ کو نہیں دیکھ سکی۔ بلاشبہ یہ ایک عجیب بات ہے اور اس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کے معجزات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بارہا صادر ہوئے ہیں اور بہت سے اولیاء اللہ سے بھی ایسی کرامتیں بارہا صادر ہوئی ہیں اور اولیاء کی یہ کرامتیں بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہی ہیں۔ کیونکہ ولی کی کرامت درحقیقت اُس کے نبی کا معجزہ ہوا کرتا ہے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ