| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ''طائف'' کی زمین میں ہر قسم کے پھلوں کی پیداوار کی صلاحیت پیدا فرما دی ہے کہ وہاں سے قسم قسم کے میوے اور پھل اور طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں مکہ معظمہ میں آتی رہتی ہیں اور اس کے علاوہ مصر و عراق بلکہ یورپ کے ممالک سے میوے اور پھل بکثرت مکہ مکرمہ آیا کرتے ہیں۔ یہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کی برکتوں کے اثرات و ثمرات ہیں جو بلاشبہ دنیا کے عجائبات میں سے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے یہ دعا مانگی جس میں آپ نے اپنی اولاد کے علاوہ تمام مومنین کے لئے بھی دعا مانگی۔
رَبِّ اجْعَلْنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿40﴾رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیۡنَ یَوْمَ یَقُوۡمُ الْحِسَابُ ﴿٪41﴾ (پ13،ابرٰھیم:40،41)
ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب مجھے نماز کاقائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب اور میری دعا سن لے اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہو گا۔ درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے دو باتیں خاص طور پر معلوم ہوئیں:۔ (۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ کے بہت ہی اطاعت گزار اور فرماں بردار تھے کہ وہ بچہ جس کو بڑی بڑی دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں پایا تھا جو آپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور تھا، فطری طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تھے مگر جب اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہو گیا کہ اے ابراہیم! تم اپنے پیارے فرزند اور اس کی ماں کو اپنے گھر سے نکال کر وادیئ بطحا کی اُس سنسان جگہ پر لے جا کر چھوڑ آؤ جہاں سر چھپانے کو درخت کا پتّا اور پیاس بجھانے کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے، نہ وہاں کوئی یار و مددگار ہے، نہ کوئی مونس و غم خوار ہے۔ دوسرا کوئی انسان ہوتا تو شاید اس کے تصور ہی سے اُس کے سینے میں دل دھڑکنے