| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
علیہ السلام نے اپنی اولاد اور باشندگانِ مکہ مکرمہ کے لئے جو ایک طویل دعا مانگی۔ وہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں مذکور ہے۔ چنانچہ سورہ ابراہیم میں آپ کی اس دعا کا کچھ حصہ اس طرح مذکور ہے۔
رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسْکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرْعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمْ وَارْزُقْہُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوۡنَ ﴿37﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس اے ہمارے رب اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ احسان مانیں۔ (پ13،ابراہیم:37) یہ مکہ مکرمہ کی آبادی کی ابتدائی تاریخ ہے جو قرآن مجید سے ثابت ہوئی ہے۔
دعاء ابراہیمی کا اثر:۔
اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند قدوس سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ کچھ لوگوں کے دل اولاد ابراہیم علیہ السلام کی طرف مائل ہوں اور دوسرے ان لوگوں کو پھلوں کی روزی کھانے کو ملے۔ سبحان اللہ عزوجل آپ کی یہ دعائیں مقبول ہوئیں۔ چنانچہ اس طرح لوگوں کے دل اہل مکہ کی طرف مائل ہوئے کہ آج کروڑہا کروڑ انسان مکہ مکرمہ کی زیارت کے لئے تڑپ رہے ہیں اور ہر دور میں طرح طرح کی تکلیفیں اٹھا کر مسلمان خشکی اور سمندر اور ہوائی راستوں سے مکہ مکرمہ جاتے رہے۔ اور قیامت تک جاتے رہیں گے اور اہل مکہ کی روزی میں پھلوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ باوجودیکہ شہر مکہ اور اس کے قرب و جوار میں کہیں نہ کوئی کھیتی ہے نہ کوئی باغ باغیچہ ہے۔ مگر مکہ مکرمہ کی منڈیوں اور بازاروں میں اس کثرت سے قسم قسم کے میوے اور پھل ملتے ہیں کہ فرط تعجب سے دیکھنے والوں