Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
145 - 414
حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سوال کیا کہ آپ اتنا فرما دیجئے کہ آپ نے اپنی مرضی سے ہمیں یہاں لا کر چھوڑا ہے یا خداوند قدوس کے حکم سے آپ نے ایسا کیا ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے ہاجرہ ! میں نے جو کچھ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اب آپ جایئے، مجھے یقین کامل اورپورا پورا اطمینان ہے کہ خداوند کریم مجھ کو اور میرے بچے کو ضائع نہیں فرمائے گا۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک لمبی دعا مانگی اور وہاں سے ملک شام چلے آئے۔ چند دنوں میں کھجوریں اور پانی ختم ہوجانے پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا اور ان کے سینے میں دودھ خشک ہوگیا اور بچہ بھوک و پیاس سے تڑپنے لگا۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پانی کی تلاش و جستجو میں سات چکر صفا مروہ کی دونوں پہاڑیوں کے لگائے مگر پانی کا کوئی سراغ دور دور تک نہیں ملا۔ یہاں تک کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے ایڑیاں پٹک پٹک کر رو رہے تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کی ایڑیوں کے پاس زمین پر اپنا پیر مار کر ایک چشمہ جاری کردیا۔ اور اس پانی میں دودھ کی خاصیت تھی کہ یہ غذا اور پانی دونوں کا کام کرتا تھا۔ چنانچہ یہی زمزم کا پانی پی پی کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام زندہ رہے۔ یہاں تک کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جوان ہو گئے اور شکار کرنے لگے تو شکار کے گوشت اور زمزم کے پانی پر گزر بسر ہونے لگی۔ پھر قبیلہ جر ہم کے کچھ لوگ اپنی بکریوں کو چراتے ہوئے اس میدان میں آئے اور پانی کا چشمہ دیکھ کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اجازت سے یہاں آباد ہو گئے اور اس قبیلہ کی ایک لڑکی سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی شادی بھی ہو گئی۔ اور رفتہ رفتہ یہاں ایک آبادی ہو گئی۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خداوند قدوس کا یہ حکم ہوا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں۔ چنانچہ آپ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی مدد سے خانہ کعبہ کو تعمیر فرمایا۔ اس وقت حضرت ابراہیم