| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کے تابوت شریف کو دریا سے نکال کر آپ کے آباؤ اجداد کی قبروں کے پاس ملک شام میں دفن فرمایا۔ بوقت وفات آپ کی عمر شریف ایک سو بیس برس کی تھی اور آپ کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۱۴۷ برس کی عمر پائی۔ اور آپ کے دادا حضرت اسحٰق علیہ السلام کی عمر شریف ۱۸۰ سال کی ہوئی اور آپ کے پردادا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی عمر شریف ۱۷۵ سال کی ہوئی؟
(روح البیان،ج۴،ص۳۲۴، پ۱۳، یوسف:۱۰۰)
(۳۵)مکہ مکرمہ کیوں کر آباد ہوا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام سرزمین شام میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لئے انہیں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام کو میرے پاس سے جدا کر کے کہیں دور کردیجئے۔ خداوند قدوس کی حکمت نے ایک سبب پیدا فرمادیا۔ چنانچہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ آپ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اسمٰعیل علیہ السلام کو اُس سرزمین میں چھوڑ آئیں جہاں بے آب و گیاہ میدان اور خشک پہاڑیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر سفر فرمایا۔ اور اُس جگہ آئے جہاں کعبہ معظمہ ہے۔ یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی نہ کوئی چشمہ ،نہ دور دور تک پانی یا آدمی کا کوئی نام و نشان تھا۔ ایک توشہ دان میں کچھ کھجوریں اور ایک مشک میں پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں رکھ کر روانہ ہو گئے۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فریاد کی کہ اے اللہ عزوجل کے نبی اس سنسان بیابان میں جہاں نہ کوئی مونس ہے نہ غم خوار، آپ ہمیں بے یارومددگار چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ کئی بار حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کو پکارا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں