Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
138 - 414
کے سپرد کردیا۔ اس طرح ملک مصر کی حکمرانی کا اقتدار آپ کو مل گیا۔

اس کے بعد آپ نے خزانوں کا نظام اپنے ہاتھ میں لے کر سات سال تک کھیتی کا پلان چلایا اور اناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھا۔ یہاں تک کہ قحط اور خشک سالی کا زور شروع ہو گیا تو پوری سلطنت کے لوگ غلے کی خریداری کے لئے مصر آنا شروع ہو گئے اور آپ نے غلوں کی فروخت شروع کردی۔

اسی سلسلے میں آپ کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے تو ان لوگوں کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں پہچان لیا مگر آپ کے بھائیوں نے آپ کو بالکل ہی نہیں پہچانا۔ آپ نے ان لوگوں کو غلہ دے دیا اور پھر فرمایا کہ تمہارا ایک بھائی (بنیامین)ہے آئندہ اس کو بھی ساتھ لے کر آنا۔ اگر تم لوگ آئندہ اس کو نہ لائے تو تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔

بھائیوں نے جواب دیا کہ ہم اُس کے والد کو رضامند کرنے کی کوشش کریں گے پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے غلاموں سے کہا کہ تم لوگ ان کی نقدیوں کو ان کی بوریوں میں ڈال دو تاکہ یہ لوگ جب اپنے گھر پہنچ کر ان نقدیوں کو دیکھیں گے تو امید ہے کہ ضرور یہ لوگ واپس آئیں گے۔ چنانچہ جب یہ لوگ اپنے والد کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ ابا جان! اب کیا ہو گا؟ عزیز مصر نے تو یہ کہہ دیا ہے کہ جب تک تم لوگ ''بنیامین'' کو ساتھ لے کر نہ آؤ گے تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔ لہٰذا آپ ''بنیا مین'' کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہم ان کے حصہ کا بھی غلہ لے لیں۔ اور آپ اطمینان رکھیں کہ ہم لوگ ان کی حفاظت کریں گے۔ اس کے بعد جب ان لوگوں نے اپنی بوریوں کو کھولا تو حیران رہ گئے کہ ان کی رقمیں اور نقدیاں ان کی بوریوں میں موجود تھیں۔ یہ دیکھ کر برادران یوسف نے پھر اپنے والد سے کہا کہ ابا جان! اس سے بڑھ کر اچھا سلوک اور کیا چاہے؟ دیکھ لیجئے عزیزِ مصر نے ہم کو پورا پورا غلہ بھی دیا ہے اور ہماری نقدیوں کو بھی واپس کردیا ہے لہٰذا آپ بلا خوف و خطر ہمارے بھائی ''بنیامین'' کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔