سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی بالیاں ہیں۔ بادشاہ اعظم نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو لوگوں نے اس خواب کو خواب پریشاں کہہ کر اس کی کوئی تعبیر نہیں بتائی۔ اتنے میں بادشاہ کا ساقی جو قید خانہ سے رہا ہو کر آگیا تھا، اس نے کہا کہ مجھے اس خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لئے جیل خانہ میں جانے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ یہ بادشاہ کا فرستادہ ہو کر قید خانہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس گیا اور بادشاہ کا خواب بیان کر کے تعبیر دریافت کی کہ سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ سات برس مسلسل کھیتی کرو اور ان کے اناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھو۔ پھر سات برس تک سخت خشک سالی رہے گی، قحط کے ان سات برسوں میں پہلے سات برسوں کا محفوظ کیا ہوا اناج لوگ کھائیں گے اس کے بعد پھر ہریالی کا سال آئے گا۔
قاصد نے واپس جا کر بادشاہ سے اُس کے خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ نے حکم دیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ قاصد رہائی کا پروانہ لے کر جیل خانہ میں پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زلیخا اور دوسری عورتوں کے ذریعہ میری بے گناہی اور پاک دامنی کا اظہار کرالیا جائے اس کے بعد ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کی تحقیقات کرائی تو تحقیقات کے دوران زلیخا نے اقرار کرلیا کہ میں نے خود ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو پھسلایا تھا۔ خطا میری ہے۔ حضرت یوسف سچے اور پاک دامن ہیں۔ اس کے بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں بلا کر کہہ دیا کہ آپ ہمارے معتمد اور ہمارے دربار کے معزز ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ آپ زمین کے خزانوں کے انتظامی امور اور حفاظتی نظام کے انتظام پر میرا تقرر کردیں۔ میں پورے نظام کو سنبھال لوں گا۔ بادشاہ نے خزانے کا انتظامی معاملہ اور ملک کے نظام و انصرام کا پورا شعبہ آپ