Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
139 - 414
حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ ''یوسف''کے معاملہ میں تم لوگوں پر بھروسا کرچکا ہوں تو تم لوگوں نے کیا کرڈالا، اب دوبارہ میں تم لوگوں پر کیسے بھروسا کرلوں؟ میں اس طرح ''بنیامین''کو ہرگز تم لوگوں کے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ لیکن ہاں اگر تم لوگ حلف اٹھا کر میرے سامنے عہد کرو تو البتہ میں اس کو بھیج سکتا ہوں۔ یہ سن کر سب بھائیوں نے حلف لے کر عہد کیا اور آپ نے ان لوگوں کے ساتھ ''بنیامین''کو بھیج دیا ۔

    جب یہ لوگ عزیز مصر کے دربار میں پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی ''بنیامین''کو اپنی مسند پر بٹھا لیا۔ اور چپکے سے ان کے کان میں کہہ دیا کہ میں تمہارا بھائی ''یوسف'' ہوں۔ لہٰذا تم کوئی فکر و غم نہ کرو۔ پھر آپ نے سب کو اناج دیا اور سب نے اپنی اپنی بوریوں کو سنبھال لیا۔ جب سب چلنے لگے تو آپ نے ''بنیامین''کو اپنے پاس روک لیا۔ اب برادرانِ یوسف سخت پریشان ہوئے۔ اپنے والد کے روبرو یہ عہد کر کے آئے تھے کہ ہم اپنی جان پر کھیل کر بنیامین کی حفاظت کریں گے اور یہاں ''بنیامین'' اُن کے ہاتھ سے چھین لئے گئے۔ اب گھر جائیں تو کیونکر اور یہاں ٹھہریں تو کیسے؟ یہ معاملہ دیکھ کر سب سے بڑا بھائی ''یہودا'' کہنے لگا کہ اے میرے بھائیو!سوچو کہ تم لوگ والد صاحب کو کیا کیا عہد و پیمان دے کر آئے ہو؟ اور اس سے پہلے تم اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کتنی بڑی تقصیر کرچکے ہو۔ لہٰذا میں تو جب تک والد صاحب حکم نہ دیں اس زمین سے ہٹ نہیں سکتا۔ ہاں تم لوگ گھر جاؤ اور والد صاحب سے سارا ماجرا عرض کردو۔ چنانچہ یہودا کے سوا دوسرے سب بھائی لوٹ کر گھر آئے اور اپنے والد سے سارا حال بیان کیا۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ یوسف کی طرح بنیامین کے معاملہ میں بھی تم لوگوں نے حیلہ سازی کی ہے۔ تو خیر، میں صبر کرتا ہوں اور صبر بہت اچھی چیز ہے۔ پھر آپ نے منہ پھیر کر رونا شروع کردیا۔ اور کہا کہ ہائے افسوس!اور حضرت یوسف علیہ السلام کو یاد کر کے اتنا روئے کہ شدت غم سے نڈھال ہو گئے اور روتے