نے معاذ اللہ کہہ کر انکار فرمادیا۔ اور صاف کہہ دیا کہ میں اپنے مالک عزیزِ مصر کے ساتھ خیانت کر کے اس کے احسانوں کی ناشکری نہیں کرسکتا۔ اور آپ گھر میں سے بھاگ نکلے۔ تو ملکہ زلیخا نے دوڑ کر پیچھے سے آپ کا پیراہن پکڑ لیا۔ اور آپ کا پیراہن پیچھے سے پھٹ گیا۔ عین اسی حالت میں عزیز مصر مکان میں آگئے اور دونوں کو دیکھ لیا۔ تو زلیخا نے آپ پر تہمت لگادی۔ عزیزِ مصر حیران ہو گیا کہ ان دونوں میں سے کون سچا ہے۔ اتفاق سے مکان میں ایک چار ماہ کا بچہ پالنے میں لیٹا ہوا تھا۔ اس نے شہادت دی کہ اگر کرتا آگے سے پھٹا ہو تو یوسف علیہ السلام قصور وار ہیں اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو زلیخا کی خطا ہے اور یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ جب عزیزِ مصر نے دیکھا تو کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ فوراً عزیزِ مصر نے زلیخا کو خطا وار قرار دے کر ڈانٹا اور حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ کہا کہ اس کا خیال و ملال نہ کیجئے۔ پھر زلیخا کے مشورہ سے عزیزِ مصر نے یوسف علیہ السلام کو قید خانہ میں بھجوا دیا۔ اس طرح اچانک حضرت یوسف علیہ السلام عزیزِ مصر کے شاہی محل سے نکل کر جیل خانہ کی کوٹھری میں چلے گئے۔ اور آپ نے جیل میں پہنچ کر یہ کہا کہ اے اللہ عزوجل! یہ قید خانہ کی کوٹھری مجھ کو اس بلا سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف زلیخا مجھے بلا رہی تھی۔ پھر آپ سات برس یا بارہ برس جیل خانہ میں رہے اور قیدیوں کو توحید اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے اور وعظ فرماتے رہے۔
یہ عجیب اتفاق کہ جس دن آپ قید خانہ میں داخل ہوئے اُسی دن آپ کے ساتھ بادشاہ مصر کے دو خادم ایک شراب پلانے والا، دوسرا باورچی دونوں جیل خانہ میں داخل ہوئے اور دونوں نے اپنا ایک ایک خواب حضرت یوسف علیہ السلام سے بیان کیا اور آپ نے اُن دونوں کے خوابوں کی تعبیر بیان فرما دی جو سو فیصدی صحیح ثابت ہوئی۔ اس لئے آپ کا نام معبر (تعبیر دینے والا)ہونا مشہور ہو گیا۔
اسی دوران مصر کے بادشاہ اعظم ریال بن ولید نے یہ خواب دیکھا کہ سات فربہ گایوں کو