Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
119 - 414
زبان لٹک کر اس کے سینے پر آگئی۔ اس وقت بلعم بن باعوراء نے اپنی قوم سے رو کر کہا کہ افسوس میری دنیا و آخرت دونوں برباد و غارت ہوگئیں۔ میرا ایمان جاتا رہا اور میں قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو گیا۔ اب میری کوئی دعا قبول نہیں ہوسکتی۔ مگر میں تم لوگوں کو مکر کی ایک چال بتاتا ہوں تم لوگ ایسا کرو تو شاید حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکروں کو شکست ہوجائے۔ تم لوگ ہزاروں خوبصورت لڑکیوں کو بہترین پوشاک اور زیورات پہنا کر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیج دو۔ اگر ان کا ایک آد می بھی زنا کریگا تو پورے لشکر کو شکست ہوجائے گی۔ چنانچہ بلعم بن باعوراء کی قوم نے اس کے بتائے ہوئے مکر کا جال بچھایا۔ اور بہت سی خوبصورت دوشیزاؤں کو بناؤ سنگھار کرا کر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیجا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا ایک رئیس ایک لڑکی کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو گیا اور اس کو اپنی گود میں اٹھا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے گیا۔ اور فتویٰ پوچھا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی! یہ عورت میرے لئے حلال ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ خبردار! یہ تیرے لئے حرام ہے۔ فوراً اس کو اپنے سے الگ کردے۔ اور اللہ عزوجل کے عذاب سے ڈر۔ مگر اس رئیس پر غلبہ شہوت کا ایسا زبردست بھوت سوار ہو گیا تھا کہ وہ اپنے نبی علیہ السلام کے فرمان کو ٹھکرا کر اُس عورت کو اپنے خیمہ میں لے گیا۔ اور زنا کاری میں مشغول ہو گیا۔ اس گناہ کی نحوست کا یہ اثر ہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں اچانک طاعون (پلیگ)کی وبا پھیل گئی اور گھنٹے بھر میں ستر ہزار آدمی مر گئے اور سارا لشکر تتر بتر ہو کر ناکام و نامراد واپس چلا آیا۔ جس کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قلب ِ مبارک پر بہت ہی صدمہ گزرا۔
               (تفسیر الصاوی،ج۲،ص۷۲۷،پ۹،الاعراف، :۱۷۵)
     بلعم بن باعوراء پہاڑ سے اتر کر مردود بارگاہِ الٰہی ہو گیا۔ آخری دم تک اس کی زبان اس کے سینے پر لٹکتی رہی اور وہ بے ایمان ہو کر مر گیا۔ اس واقعہ کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
Flag Counter