Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
118 - 414
مقبول ہوجائے گی۔ یہ سن کر بلعم بن باعوراء کانپ اٹھا۔ اور کہنے لگا کہ تمہارا برا ہو۔ خدا کی پناہ! حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے رسول ہیں۔ اور ان کے لشکر میں مومنوں اور فرشتوں کی جماعت ہے ان پر بھلا میں کیسے اور کس طرح بددعا کرسکتا ہوں؟ لیکن اس کی قوم نے رو رو کر اور گڑگڑا کر اس طرح اصرار کیا کہ اس نے یہ کہہ دیا کہ استخارہ کرلینے کے بعد اگر مجھے اجازت مل گئی تو بددعا کردوں گا۔ مگر استخارہ کے بعد جب اس کو بددعا کی اجازت نہیں ملی تو اس نے صاف صاف جواب دے دیا کہ اگر میں بددعا کروں گاتو میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔

     اس کے بعد اس کی قوم نے بہت سے گراں قدر ہدایا اور تحائف اس کی خدمت میں پیش کر کے بے پناہ اصرار کیا۔ یہاں تک کہ بلعم بن باعوراء پر حرص اور لالچ کا بھوت سوار ہو گیا، اور وہ مال کے جال میں پھنس گیا۔ اور اپنی گدھی پر سوار ہو کر بددعا کے لئے چل پڑا۔ راستہ میں بار بار اس کی گدھی ٹھہر جاتی اور منہ موڑ کر بھاگ جانا چاہتی تھی۔ مگر یہ اس کو مار مار کر آگے بڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ گدھی کو اللہ تعالیٰ نے گویائی کی طاقت عطا فرمائی۔ اور اس نے کہا کہ افسوس! اے بلعم باعوراء تو کہاں اور کدھر جا رہا ہے؟ دیکھ! میرے آگے فرشتے ہیں جو میرا راستہ روکتے اور میر امنہ موڑ کر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ اے بلعم! تیرا برا ہو کیا تو اللہ کے نبی اور مومنین کی جماعت پر بددعا کریگا؟ گدھی کی تقریر سن کر بھی بلعم بن باعوراء واپس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ''حسبان'' نامی پہاڑ پر چڑھ گیا۔ اور بلندی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکروں کو بغور دیکھا اور مال و دولت کے لالچ میں اس نے بددعا شروع کردی۔ لیکن خدا عزوجل کی شان کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے بددعا کرتا تھا۔ مگر اس کی زبان پر اس کی قوم کے لئے بددعا جاری ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر کئی مرتبہ اس کی قوم نے ٹوکا کہ اے بلعم! تم تو الٹی بددعا کررہے ہو۔ تو اس نے کہا کہ اے میری قوم! میں کیا کروں میں بولتا کچھ اور ہوں اور میری زبان سے کچھ اور ہی نکلتا ہے۔ پھر اچانک اس پر یہ غضب ِ الٰہی نازل ہو گیا کہ ناگہاں اس کی