| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیۡنَ ﴿175﴾وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗۤ اَخْلَدَ اِلَی الۡاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنۡ تَحْمِلْ عَلَیۡہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثۡ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿176﴾ (پ9،الاعراف:175،176)
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور اے محبوب انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہو گیا۔ اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھا لیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں۔ بلعم بن باعوراء کیوں ذلیل ہوا؟:۔روایت ہے کہ بعض انبیاء کرام نے خدا تعالیٰ سے دریافت کیا کہ تونے بلعم بن باعوراء کو اتنی نعمتیں عطا فرما کر پھر اس کو کیوں اس قعرِ مذلت میں گرا دیا؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُس نے میری نعمتوں کا کبھی شکر ادا نہیں کیا۔ اگر وہ شکر گزار ہوتا تو میں اس کی کرامتوں کو سلب کر کے اس کو دونوں جہاں میں اس طرح ذلیل و خوار اور غائب و خاسر نہ کرتا۔
(تفسیر روح البیان،ج۳،ص۱۳۹،پ۸،الاعراف :۱۰)
درسِ ہدایت:۔بلعم بن باعوراء کی اس سرگزشت سے چند اسباقِ ہدایت ملتے ہیں:۔ (۱)اس سے اُن عالموں اور لیڈروں کو سبق حاصل کرنا چاہے جو مالداروں یا حکومتوں سے رقمیں لے کر خلافِ شریعت باتیں کرتے ہیں اور جان بوجھ کر اپنے دین و ایمان کا سودا کرتے ہیں۔ دیکھ لو بلعم بن باعوراء کیا تھا اور کیا ہو گیا؟ یہ کیوں ہوا؟ اس لئے اور صرف اس لئے کہ وہ مال و دولت کے لالچ میں گرفتار ہو گیا اور دانستہ اللہ عزوجل کے نبی پر بددعا کرنے کے لئے تیار