| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کرلی اور توراۃ کے احکام پر عمل کرنے کا عہد کرلیا تو پھر یہ پہاڑ اڑ کر اپنی جگہ پر چلا گیا۔ قرآن مجید نے اس واقعہ کو چند جگہوں پر بیان فرمایا ہے مثلاً سورہ اعراف میں ہے کہ:۔
وَ اِذۡ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَہُمْ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمْ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ ﴿171﴾٪
ترجمہ کنزالایمان:۔اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا لوجو ہم نے تمہیں دیا زور سے اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیز گار ہو۔ (پ9،الاعراف:171) درس ہدایت:۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ناواقفوں یا سرکشوں کو کسی نیک کام کے کرنے یا اچھی بات کو قبول کرنے پر ڈرا دھمکا کر مجبور کرنا یہ عین حکمت اور خداوند قدوس کی مقدس سنت ہے۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
(۳۰)زبان لٹک کر سینے پر آگئی
بلعم بن باعوراء:۔یہ شخص اپنے دور کا بہت بڑا عالم اور عابد و زاہد تھا۔ اور اس کو اسم اعظم کا بھی علم تھا۔ یہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا اپنی روحانیت سے عرش اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ اور بہت ہی مستجاب الدعوات تھا کہ اس کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں۔ اس کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی، مشہور یہ ہے کہ اس کی درسگاہ میں طالب علموں کی دواتیں بارہ ہزار تھیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ''قوم جبارین'' سے جہاد کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوئے تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لے کر حملہ آور ہونے والے ہیں۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ہماری زمینوں سے نکال کر یہ زمین اپنی قوم بنی اسرائیل کو دے دیں۔ اس لئے آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے ایسی بددعا کر دیجئے کہ وہ شکست کھا کر واپس چلے جائیں۔ آپ چونکہ مستجاب الدعوات ہیں اس لئے آپ کی دعا ضرور