Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
116 - 414
سامری نے چالیس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر ساری قوم کو بہکا کر گمراہ کردیا۔ اسی طرح اگر علمائے اہل سنت اپنی قوم کی ہدایت و خبر گیری سے غافل رہیں گے تو بدمذہبوں کو موقع مل جائے گا کہ ان لوگوں کو بہکا کر گمراہ کردیں۔

(۲)حضرت جبرئیل علیہ السلام کے گھوڑے کے پاؤں کی خاک میں جب یہ اثر تھا کہ بچھڑے کے منہ میں پڑتے ہی بچھڑا بولنے لگا تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ والوں کے قدموں کے نیچے کی خاک میں بھی خیر و برکت کے اثرا ت ہوا کرتے ہیں۔ لہٰذا خدا کے نیک بندوں کے غبار آلود قدموں کو دھو کر مکانوں میں پانی چھڑکنا جیسا کہ بعض خوش عقیدہ مریدین کا طریقہ ہے یہ کوئی لغو اور بیکار کام نہیں بلکہ اس سے فیوض و برکات اور فوائد حاصل ہونے کی امید ہے اور یہ شرعاً جائز بھی ہے۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
 (۲۹)سروں کے اوپر پہاڑ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توراۃ شریف کے احکام پڑھ کر بنی اسرائیل کو سنائے اور فرمایا کہ تم لوگ اس پر عمل کرو۔ جب بنی اسرائیل نے توراۃ شریف کے احکام کو سنا تو ایک دم انہوں نے ان احکام کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس سرکشی پر اللہ تعالیٰ کا یہ غضب نازل ہوا کہ ناگہاں کوہِ طور جڑ سے اُکھڑ کر ہوا میں اُڑتا ہوا بنی اسرائیل کے سروں کے اوپر ہوا میں معلق ہو گیا جو تین میل لمبی اور تین میل چوڑی زمین میں ڈیرے ڈالے ہوئے مقیم تھے۔ جب بنی اسرائیل نے یہ دیکھا کہ پہاڑ ان کے سروں پر لٹک رہا ہے تو سب کے سب سجدہ میں گر کر عہد کرنے لگے کہ ہم نے توراۃ کے سب احکامات کو قبول کیا۔ اور ہم ان پر عمل بھی کریں گے۔ مگر ان لوگوں نے سجدہ میں اپنے رخسار اور بائیں بھنوؤں کو زمین پر رکھا اور داہنی آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں ہمارے اوپر گر تو نہیں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی یہودی اسی طرح سجدہ کرتے ہیں کہ بایاں رخسار اور بایاں بھنوؤں زمین پر رکھتے ہیں۔ بہرحال بنی اسرائیل نے جب توبہ
Flag Counter