Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
115 - 414
سر بسجود ہو کر اس بچھڑے کو پوجنے لگے۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے:۔
وَ اتَّخَذَ قَوْمُ  مُوۡسٰی مِنۡۢ بَعْدِہٖ مِنْ حُلِیِّہِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور موسیٰ کے بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا بیٹھی بے جان کا دھڑ گائے کی طرح آواز کرتا۔ (پ۹،الاعراف:۱۴۸)

جب چالیس دنوں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا عزوجل سے ہم کلام ہو کر اور توراۃ شریف ساتھ لے کر بستی میں تشریف لائے اور قوم کو بچھڑا پوجتے ہوئے دیکھا تو آپ پر بے حد غضب و جلال طاری ہو گیا۔ آپ نے جوش غضب میں تورات شریف کو زمین پر ڈال دیا اور اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنا اور مارنا شروع کردیا اور فرمانے لگے کہ کیوں تم نے ان لوگوں کو اس کام سے نہیں روکا۔ حضرت ہارون علیہ السلام معذرت کرنے لگے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔
قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوۡنِیۡ وَکَادُوۡا یَقْتُلُوۡنَنِیۡ ۫ۖ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الۡاَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِیۡ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿150﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔کہا اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے ظالموں میں نہ ملا۔ (پ9،الاعراف:150)

حضرت ہارون علیہ السلام کی معذرت سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے اس بچھڑے کو توڑ پھوڑ کر اور جلا کر اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیا۔

درس ہدایت:۔مذکورہ بالا قرآنی واقعہ سے خاص طو رپر دو سبق ملتے ہیں:۔

(۱)اس سے علماء کرام کو یہ سبق ملتا ہے کہ علماء کرام کو کبھی اپنے مذہب کے عوام کی طرف سے غافل نہیں رہنا چاہے بلکہ ہمیشہ عوام کو مذہبی باتیں بتاتے رہنا چاہے۔ آپ نے دیکھا کہ
Flag Counter