Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
108 - 414
آدمی مر کر فنا ہو گیا۔ اور اس قوم کا ایک بچہ بھی باقی نہ رہا۔

جب آندھی ختم ہوئی تو اس قوم کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑی ہوئی تھیں جس طرح کھجوروں کے درخت اکھڑ کر زمین پر پڑے ہوں چنانچہ ارشاد ربانی ہے:۔
وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿6﴾سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الْقَوْمَ فِیۡہَا صَرْعٰی ۙ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿7﴾فَہَلْ تَرٰی لَہُمۡ مِّنۡۢ بَاقِیَۃٍ ﴿8﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور رہے عاد وہ ہلاک کئے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے وہ ان پر قوت سے لگا دی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈنڈ(سوکھے تنے)ہیں گرے ہوئے تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو۔ (پ29،الحاقۃ:6تا8)

پھر قدرتِ خداوندی سے کالے رنگ کے پرندوں کا ایک غول نمودار ہوا۔ جنہوں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ اور حضرت ہود علیہ السلام نے اس بستی کو چھوڑ دیا اور چند مومنین کو جو ایمان لائے تھے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ چلے گئے۔ اور آخرِ زندگی تک بیت اللہ شریف میں عبادت کرتے رہے۔
                         (تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۶،پ۸،الاعراف:۷۰)
درسِ ہدایت:۔قرآن کریم کے اس دردناک واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ ''قوم عاد''جو بڑی طاقتور اور قد آور قوم تھی اور ان لوگوں کی مالی خوشحالی بھی نہایت مستحکم تھی کیونکہ لہلہاتی کھیتیاں اور ہرے بھرے باغات ان کے پاس تھے۔ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان لوگوں نے گرمیوں اور سردیوں کے لئے الگ الگ محلات تعمیر کئے تھے۔ ان لوگوں کو اپنی کثرت اور طاقت پر بڑا اعتماد، اپنے تمول اور سامان عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا۔ مگر کفر اور بداعمالیوں و بدکاریوں کی نحوست نے ان لوگوں کو قہرِ الٰہی کے عذاب میں اس طرح گرفتار کردیا کہ آندھی
Flag Counter