مرثد بن سعد نامی ایک شخص بھی تھا جو مومن تھا مگر اپنے ایمان کو قوم سے چھپائے ہوئے تھا۔ جب ا ن لوگوں نے کعبہ معظمہ میں دعا مانگنی شروع کی تو مرثد بن سعد کا ایمانی جذبہ بیدار ہو گیا۔ اور اس نے تڑپ کر کہا کہ اے میری قوم تم لاکھ دعائیں مانگو، مگر خدا کی قسم اس وقت تک پانی نہیں برسے گا جب تک تم اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان نہ لاؤ گے۔ حضرت مرثد بن سعد نے جب اپنا ایمان ظاہر کردیا تو قوم عاد کے شریروں نے ان کو مار پیٹ کر الگ کردیا اور دعائیں مانگنے لگے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین بدلیاں بھیجیں۔ ایک سفید، ایک سرخ، ایک سیاہ اور آسمان سے ایک آواز آئی کہ اے قوم عاد!تم لوگ اپنی قوم کے لئے ان تین بدلیوں میں سے ایک بدلی کو پسند کرلو۔ ان لوگوں نے کالی بدلی کو پسند کرلیا اور یہ لوگ اس خیال میں مگن تھے کہ کالی بدلی خوب زیادہ بارش دے گی۔ چنانچہ وہ ابر سیاہ قوم عاد کی آبادیوں کی طرف چل پڑا۔ قوم عاد کے لوگ کالی بدلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم ! دیکھ لو عذابِ الٰہی ابر کی صورت میں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے مگر قوم کے گستاخوں نے اپنے نبی کو جھٹلا دیا اور کہا کہ کہاں کا عذاب اور کیسا عذاب؟