پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے بیشک اگر تم ہم پرسے عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھا لیتے ایک مدت کے لئے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے
درس ہدایت:۔(۱)ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ عہد شکنی اور اللہ کے نبیوں کی تکذیب و توہین کتنا بڑا اور ہولناک جرم عظیم ہے کہ اس کی وجہ سے فرعونیوں پر بار بار عذابِ الٰہی قسم قسم کی صورتوں میں اترا۔ یہاں تک کہ آخر میں وہ دریا میں غرق کر کے دنیا سے فنا کردیئے گئے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو عہد شکنی اور سرکشی اور گناہوں سے بچتے رہنا لازم ہے کہ کہیں بداعمالیوں کی نحوستوں سے ہم پر بھی قہرِ الٰہی عذاب کی صورت میں نہ اتر پڑے۔
(۲)حضرت موسیٰ علیہ السلام کا صبر و تحمل اور ان کی رقیق القلبی بلاشبہ انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کہ بار بار عہد شکنی کرنے والے اپنے دشمنوں کی آہ و فغاں پر رحم کھا کر ان کے عذاب کو دفع کرنے کی دعا فر ماتے رہے اس سے معلوم ہوا کہ قوم کے ہادی اور ان کے پیشوا کے لئے صبر و تحمل اور عفو و درگزر کی خصلت انتہائی ضروری ہے اور علماء کرام کو جو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے نائبین ہیں ان کے لئے بے حد لازم و ضروری ہے کہ وہ اپنے مخالفین اور بدخواہوں سے انتقام کا جذبہ نہ رکھیں بلکہ صبر و تحمل کر کے اپنے مجرموں کو بار بار معاف کرتے رہیں۔ کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مقدس سنت بھی ہے اور ہمارے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ ایک بڑا ہی خاص اور خصوصی طرہ امتیاز ہے کہ آپ نے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے اپنے دشمنوں سے کوئی بھی انتقام نہیں لیا بلکہ ہمیشہ ان کو معاف فرما دیا کرتے تھے۔ اور یہ آپ کی مقدس تعلیم کا بہت ہی تابناک اور درخشاں ارشاد ہے کہ