Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
102 - 414
مَنْ اَسَاءَ اِلَیْکَ
یعنی تم سے جو تعلق کاٹے تم اس سے تعلق جوڑو۔ اور جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردو۔ اور جو تمہارے ساتھ بُرا برتاؤ کرے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے اسی حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔
   بدی رابدی سہل باشد جزا                        اگر مردی اَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَا
یعنی برائی کا برا بدلہ دینا تو بہت آسان ہے لیکن اگر تم جوان مرد ہو تو برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرو۔
(۲۵)حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی
حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے جب قوم ثمود کو خدا (عزوجل)کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیے جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو۔ چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔

اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے۔ ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا۔ قوم نے اس کو مان لیا پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ:۔
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدْ جَآءَتْکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ؕ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلْ فِیۡۤ اَرْضِ اللہِ وَلَاتَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿73﴾                     (پ8،الاعراف:73)
Flag Counter