| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
الغرض فرعونیوں نے پھر گڑگڑا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی۔ تو آپ نے پیغمبرانہ رحم و کرم فرما کر پھر ان لوگوں کے لئے دعائے خیر فرما دی تو ساتویں دن اس خونی عذاب کا سایہ بھی ان کے سروں سے اٹھ گیا۔ الغرض ان سرکشوں پر مسلسل پانچ عذاب آتے رہے اور ہر عذاب ساتویں دن ٹلتا رہا اور ہر دو عذابوں کے درمیان ایک ماہ کا فاصلہ ہوتا رہا مگر فرعون اور فرعونیوں کے دلوں پر شقاوت و بدبختی کی ایسی مہر لگ چکی تھی کہ پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے اور اپنے کفر پر اڑے رہے اور ہر مرتبہ اپنا عہد توڑتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب کا آخری عذاب آگیا کہ فرعون اور اس کے متبعین سب دریائے نیل میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے خدا کی دنیا ان عہد شکنوں اور مردودوں سے پاک و صاف ہو گئی اور یہ لوگ دنیا سے اس طرح نیست و نابود کردیئے گئے کہ روئے زمین پر ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہیں رہ گیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۸۰۳،پ۹،الاعراف: ۱۳۳)
قرآن مجید نے ان مذکورہ بالا پانچوں عذابوں کی تصویر کشی ان الفاظ میں فرمائی ہے:۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمُ الطُّوۡفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ ۟ فَاسْتَکْبَرُوۡا وَکَانُوۡا قَوْمًا مُّجْرِمِیۡنَ ﴿133﴾وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیۡہِمُ الرِّجْزُ قَالُوۡا یٰمُوۡسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ لَئِنۡ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ ﴿134﴾ۚفَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤی اَجَلٍ ہُمۡ بَالِغُوۡہُ اِذَا ہُمْ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿135﴾فَانۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوۡا عَنْہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿136﴾
(پ9،الاعراف:133تا136)ترجمہ کنزالایمان:۔تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن (یاکلنی یا جوئیں)اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی اور جب ان پر عذاب