| آئینہ قیامت |
مدینہ۳ حضرتِ سیِّدُناعبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ارشاد ِگرامی ہے ، رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم جب مدینۃُ المنوَّرہ
زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًا
میں تشریف لائے، یَہُو د کو عاشورا ء کے دن روزہ دار پایا توارشاد فرمایا:''یہ کیا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟'' عَر ض کی، یہ عظمت والا دن ہے کہ اِسمیں موسٰی علیہِ الصّلٰوۃ وَالسّلام اور اُن کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے نَجات دی اور فرعون اوراُس کی قوم کو ڈَبودیا ۔ لہٰذا موسٰی علیہِ الصّلٰوۃ وَالسّلام نے بطورِشکرانہ اِس دن کا روزہ رکھا، توہم بھی روز ہ رکھتے ہیں۔ارشاد فرمایا: ''موسٰی علیہِ الصّلٰوۃ وَالسّلام کی مُوافَقَت کرنے میں بہ نسبت تمھارے ہم زیادہ حقدار اور زیادہ قریب ہیں۔ ''تو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خُود بھی روزہ رکھا اور اِس کا حُکْم بھی فرمایا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ عَزَّوَجَلَّ کوئی خاص نِعمت عطا فرمائے اُس کی یادگار قائم کرنا دُرُست و محبوب ہے کہ اس طرح اُس نِعمتِ عُظمٰی کی یاد تازہ ہوگی اورا ُسکا شکر ادا کرنے کا سبب بھی ہوگا۔ خود قُراٰنِ عظیم میں ارشاد فرمایا :
وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰىمِ اللہِ ؕ
(پ ۱۳،ابراھیم :۵)
ترجَمۂ کنزالایمان:اور انھیں اﷲ کے دن یاددلا۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ اَیَّا مِ اللہ سے وہ دن مُراد ہیں جن میں اللہ عَزَّوَجَلَّ