Brailvi Books

آئینہ قیامت
92 - 100
    سدمی کہتے ہیں کہ ''ایک شخص نے کربلامیں میری دعوت کی،لوگوں نے آپس میں ذکر کیا کہ ''جس جس نے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون میں شرکت کی بری موت مرا ۔'' میزبان نے اسے جھٹلایا اور کہا:'' وہ شخص بھی اسی لشکرمیں تھا۔''پچھلی رات چراغ درست کرنے اٹھا،آگ نے جست کر کے اس کے بدن کو لیا ،خداکی قسم! میں نے دیکھا کہ اس کا بدن کوئلہ ہو گیاتھا۔''

    امام زہری فرماتے ہیں:'' ان میں کوئی مارا گیا ،کوئی اندھا ہو کر مرا ،کسی کا منہ کالا ہو گیا ۔''

    امام واقدی فرماتے ہیں:''ایک بڈھا وقتِ شہادتِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھا شریک نہ ہواتھا ،اندھا ہو گیا ۔سبب پوچھا،کہا:'' اس نے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خواب میں دیکھا ،آستینیں چڑھائے ،دستِ اقدس میں ننگی تلوار لئے ،سامنے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دس قاتل ذبح کئے ہوئے پڑے ہیں ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علی والہ وسلم نے اس بڈھے پر غضب فرمایا کہ'' تو نے موجود ہو کر اس گروہ کو بڑھایا؟'' اور خونِ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک سلائی آنکھوں میں لگادی ،اٹھا تو اندھا تھا ۔''

    سبط ابن الجوزی روایت کرتے ہیں:'' جس شخص نے سرِ مبارک ِامام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھوڑے پر لٹکایا تھا ،چند روز بعد اس کامنہ کوئلے سے زیادہ کالاہو گیا۔ لوگوں نے کہا:''تیرا چہرہ تو عرب بھر میں تروتازہ تھا یہ کیا ماجراہے ؟''کہا:''جب سے وہ سر اٹھایا ہے ،ہر رات دو شخص آتے اور بازو پکڑکر بھڑکتی آگ پر لے جا کر دھکا دیتے ہیں ۔سرجھکتاہے ،آگ چہرے کو مارتی ہے۔''پھرنہایت برے حالوں مرگیا ۔''

    ایک بڈھے نے حضورپرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ سامنے