Brailvi Books

آئینہ قیامت
91 - 100
   بعدِشہادت آسمان سے خون برسا ۔نصرہ ازدیہ کہتی ہیں کہ'' ہم صبح کو اٹھے توتمام برتن خون سے بھرے پائے...آسمان اس قدر تاریک ہوا کہ دن کو ستارے نظر آئے ... ملک ِشام میں جو پتھر اٹھاتے، اس کے نیچے تازہ خون پاتے ۔''

    ایک روایت میں ہے سات دن آسمان اس قدر تاریک ہوا کہ دیواریں شہاب کی رنگی ہوئی چادریں معلوم ہوتیں ....ستاروں میں تلاطم نظر آتا ....ایک ستارہ دوسرے سے ٹکراتا ۔

    ابو سعید فرماتے ہیں:'' دنیا بھر میں جو پتھر اٹھایا اس کے نیچے تازہ خون پایا .... آسمان سے خون برسا....کپڑے پھٹتے پھٹ گئے ،مگر اس کا اثرنہ جانا تھا نہ گیا .... خراسان وشام وکوفہ میں گھروں اوردیواروں پر خون ہی خون تھا ۔''

    علماء فرماتے ہیں '' یہ تیز سرخی جوشفق کے ساتھ دیکھی جاتی ہے، شہادت مبارک سے پہلے نہ تھی ،چھ مہینے تک آسمان کے کنارے سرخ رہے پھر یہ سرخی نمودارہوئی ۔''
قتل امام حسین میں شریک بدبختوں کا عبرت ناک انجام
    ابو الشیخ نے روایت کی: ''کچھ لوگ بیٹھے ذکر کر رہے تھے کہ جس نے امامِ مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل میں کچھ اعانت کی کسی نہ کسی بلا میں ضرور مبتلا ہوا ۔''ایک بڈھے نے اپنے نفسِ ناپاک کی نسبت کہا کہ ''اسے توکچھ نہ ہوا ۔''چراغ کی بتی سنبھالی، آگ نے اس شقی کو لیا ،آگ آگ چلاتا فرات میں کود پڑا ،مگر وہ آ گ ہی نہ بجھی، یہاں تک کہ آگ میں پہنچا ۔

    منصور بن عمار نے روایت کی ''امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتل ایسی پیاس میں مبتلاہوئے کہ ایک ایک مشک چڑھا جاتے اور پیاس کم نہ ہوتی ۔''
Flag Counter