| آئینہ قیامت |
ایک طشت میں خون رکھاہے اور لوگ پیش کئے جاتے ہیں ،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اس خون کا دھبا لگا دیتے ہیں، جب اس کی باری آئی ،اس نے عرض کی:'' میں تو موجود نہ تھا ۔''فرمایا:'' دل سے تو چاہاتھا۔''پھر انگشتِ مبارک سے اس کی طرف اشارہ کیا صبح کو اندھا اٹھا ۔
حاکم نے روایت کی کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے جبریل نے عرض کی: ''اللہ تعالیٰ فرما تاہے:'' میں نے یحييٰ بن زکریا کے بدلے سترہزار قتل کئے اور حسین کے عوض میں ستر ہزار اور سترہزار قتل فرماؤں گا ۔''(المستد رک،کتاب توا ریخ المتقدمین...الخ،قصۃ قتل یحیٰعلیہ السلام،الحدیث۴۲۰۸،ج۳،ص۴۸۵)
الحمد للہ! اللہ عزوجل نے ابن زیاد خبیث سے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ لے لیا ۔جب وہ مردود ماراگیا ،اس کا سرمع اس کے ساتھیوں کے سروں کے لا کررکھا گیا ۔لوگوں کا ہجوم تھا، غل پڑ گیا ''آیا آیا ۔''راوی کہتے ہیں:'' میں نے دیکھا کہ ایک سانپ آرہا ہے، سب سروں کے بیچ میں ہوتاہوا ابن زیاد کے ناپاک سر تک پہنچا ۔ایک نتھنے میں سے گھس کر دوسرے نتھنے میں سے نکلا اورچلا گیا۔پھر غل پڑا آیا آیا،پھر وہی سانپ آیا اوریوں ہی کیا ،کئی بار ایسا ہی ہوا ۔''
منصور کہتے ہیں:'' میں نے شام میں ایک شخص دیکھا، اس کامنہ سؤر کامنہ تھا، سبب پوچھا، کہا:''وہ مولی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوران کی پاک اولاد پر لعنت کیا کرتا ۔'' ایک رات حضور سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کوخواب میں دیکھا ،امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خبیث کی شکایت کی ،حضور علیہ الصلاۃو السلام نے اس پر لعنت فرمائی اور منہ پر تھوک دیا، چہرہ سؤرکا ہوگیا ۔'' وَالْعِیَاذُ بِاللہِ رَبِّ الْعَا لَمِیْنَ