وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ
ترجمہ کنز الایمان:اور جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
جب سرِ مبارک امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، اس ظالم اظلم یزید پلیدکے پاس پہنچا ،بید سے چھونے لگا ، نصرانی بادشاہ روم کا سفیر موجود تھا ،حیران ہو کر بولاکہ'' ہمارے یہاں ایک جزیرے کے گرجا میں عیسیٰ علیہ السلام کے گدھے کاسم ہے ،ہم ہرسال دور دور سے اس کی طرف حج کی طرح جاتے اور منتیں مانتے ہیں اور اس کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جیسے تم اپنے کعبہ کی ،تم نے اپنے نبی کے بیٹے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ یہ سلوک کیا،میں گواہی دیتاہوں کہ تم لوگ باطل پرہو۔''
ایک یہودی نے کہا:'' مجھ میں اور داؤد علیہ السلام میں سترپشت کا فاصلہ ہے یہود میری تعظیم کرتے ہیں اورتم نے خود اپنے نبی کے بیٹےصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ کوقتل کیا!۔
پھرشام سے یہ قافلہ مدینہ طیبہ کو روانہ کیا گیا ،مدینہ میں پہنچنے کی تاریخ قیامت کا سامان اپنے ساتھ لائی ۔گھر گھر میں کہرام تھا ،درودیوار سے دل دکھانے اورکلیجے میں گھاؤڈالنے والی مصیبت ٹپکی پڑتی تھی ۔
(صحیح البخاری،ج۱،ص۶۵۶،حدیث۲۰۰۴)