اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَہۡفِ وَ الرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا
ترجمہ کنزالایمان:کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ میں اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے۔
سرمبارک نے فرمایا :
''یَاتَالِیَ الْقُرْاٰنَ اَعْجَبُ مِنْ قِصَّۃِ اَصْحَابِ الْکَھْفِ قَتْلِیْ وَحَمْلِیْ''
اے قرآن پڑھنے والے! اصحاب کہف کے قصے سے زیادہ عجیب ہے میرا قتل کرنا اورسرنیزے پر لئے پھرنا۔ظالم جہاں ٹھہرتے سرمبارک کو نیزے پررکھ کر پہرادیتے۔
(شرح الصدور،باب زیارۃ القبورو علم الموتیٰ...الخ،ص۲۱۲)
ایک راہب نصرانی نے دیکھا تو پوچھا ،بتایا ،کہا: ''تم برے لوگ ہو ،کیا دس ہزار اشرفیاں لے کر اس پر راضی ہو سکتے ہو کہ ایک رات یہ سر میرے پاس رہے ۔''دنیا کے کتوں نے قبول کر لیا۔راہب نے سر مبارک لےکر دھویا ،خوشبو لگائی ،رات بھر اپنی ران پر رکھے دیکھتا رہا ایک نور بلند ہوتا پایا ۔راہب نے وہ رات رو کر کاٹی ،صبح اسلام لایا اور گرجا اور اس کا مال متاع چھوڑ کر اہلِ بيت کی خدمت میں عمر گزار دی۔
صبح ان خبیثوں نے اشرفیوں کے توڑے آپس میں حصے کرنے کو کھولے ، سب