| آئینہ قیامت |
جب یہ مظلوموں کا لٹا ہواقافلہ شہیدوں کی لاشوں پر گزرا کہ بے گورو کفن میدان میں پڑے ہیں ،حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے تابانہ چلا اٹھیں: ''یا رسول اللہ !عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم حضور پر ملائکہ آسمان کی درودیں، حضور! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ ہیں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ....میدان میں لیٹے ....سر سے پاؤں تک خون میں لپٹے.... تمام بدن کے جوڑ کٹے اورحضور کی بیٹیاں قیدی ہوئیں اور حضور کے بچے مقتول پڑے ہیں جن پر ہوا خاک اڑاکر ڈالتی ہے ۔......''
(المرجع السابق)
جب یہ مظلوم قافلہ، ابن زیاد بد نہاد کے پاس پہنچا ،اس نے عابد مظلوم سے بحث کی ،مسکت جواب پانے پر حیران ہوکر بولا: ''خداکی قسم !تم انہیں میں سے ہو ۔''پھر ایک شخص سے کہا:''دیکھ تویہ بالغ ہیں ''اس پر مری بن معاذ احمری شقی نے سید مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قریب جا کر غور سے دیکھا،کہا: ''ہاں جوان ہیں ۔''خبیث بولا:'' انہیں بھی قتل کر۔''حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہابے تاب ہو کر مظلوم بھتیجے کے گلے سے لپٹ گئیں اور فرمایا: '' ابن زیاد بس کر !ابھی ہمارے خون سے تو سیراب نہ ہوا ؟ہم میں تونے کسے باقی چھوڑا ہے ؟میں تجھے خداعزوجل کا واسطہ دیتی ہوں کہ..... اس بچے کو قتل کرے تو اس کے ساتھ مجھے بھی مار ڈال ۔''
عابد مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اے ابن زیاد! ان بے کس عورتوں کا کون نگہبان رہے گا؟دین ودیانت وحقوق رسالت تو برباد گئے،آخرتجھے ان سے کچھ قرابت بھی ہے، اسی کا خیال کرکے ان کے ساتھ کوئی خداترس بندہ کر دینا ،جو اسلامی پاس کے ساتھ انہیں مدینہ پہنچاآئے ۔''حضرت زینب (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی یہ حالت دیکھ کر خبیث بولا: ''خون کی شرکت بھی کیا چیز ہے میں یقین کرتاہوں کہ یہ بی بی یہی چاہتی