Brailvi Books

آئینہ قیامت
87 - 100
   جب سر مبارک ابن زیاد خبیث کے پاس لایا گیا ،اس کے گھر کے درودیوار سے خون بہنے لگا ۔وہ شقی چھڑی سے دندانِ مبارک کو چھو کر بولا:'' میں نے ایسا خوبصورت نہ دیکھا ،دانت کیسے اچھے ہیں ۔''زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف رکھتے تھے، فرمایا: ''اپنی چھڑی ہٹا ،میں نے مدتوں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ان ہونٹوں کو چومتے اورپیار کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔''یہ کہہ کر رونے لگے ۔وہ خبیث بولا: ''تمہیں رونا نصیب ہو، اگر سٹھ نہ گئے ہوتے توگردن ما ردیتا ۔''یہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اس مردود کے درباریوں سے فرمایا:'' تم نے فاطمہ کے بیٹےرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کیا اور مرجانہ کے جنے کو امیر بنا یا ،آج سے تم غلام ہو ،خداکی قسم! تمہارے اچھے اچھے قتل کئے جائيں گے اورجو بچ رہیں گے غلام بنا لئے جائیں گے ۔دورہوں وہ جو ذلت وعارپر راضی ہوں ۔''پھر فرمایا ''اے ابنِ زیاد !میں تجھ سے وہ حدیث ضرور بیان کروں گا جو تجھے غیظ وغضب کی آگ میں پھونک دے ۔میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو دیکھاد ہنی ران مبارک پر حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بٹھایا اور بائیں پر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور دستِ اقدس ان کے سروں پر رکھ کر دعا فرمائی: ''الٰہی!عزوجل میں ان دونوں کو تجھے اور نیک مسلمانوں کو سونپتا ہوں ''۔اے ابن زیاد! دیکھ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امانت کے ساتھ تونے کیاکیا ؟''ادھر ظالموں نے عابد بیمار کے گلے میں طوق ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالیں اور بیبیوں کو اونٹوں پرسوار کرا کر، دو روز بعد کربلاسے کوچ کیا۔
سوار گھوڑوں پراعداء پیادہ شہزادہ 

الٰہی کیسا زمانے نے انقلاب کیا
Flag Counter