| آئینہ قیامت |
شقی ناری جہنمی پکارا:''کوئی ہے کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم کو گھوڑوں سے پامال کردے ؟'' ..... دس مردودگھوڑے کداتے دوڑے اورفاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی گودکے پالے ،مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سینے پرکھیلنے والے ،کے تنِ مبارک کو سموں سے روندا کہ سینہ و پشتِ نازنین کی تمام ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو گئیں .....
صَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلاَنَا مُحَمَّدٍوَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَلَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی اَعْدَائِہٖ وَاَعْدَائِھِمِ الظّٰلِمِیْنَ۔
(المرجع السابق،ص۴۳۲)
شہادت کے بعد کے واقعات
کبڑے کتے شمر خبیث نے چاہا کہ امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبھی شہید کرے، حمید بن مسلم بولا: ''سبحان اللہ! کیا بچے بھی قتل کئے جائیں گے ؟''....ظالم باز رہا۔
(المرجع السابق،ص۴۳۳)
پھر سرِمبارک امام مظلوم وشہدائے مرحوم علیہم الرضوان خولی بن یزید اور حمید بن مسلم کے ساتھ ابن زیاد کے پاس بھیجے گئے ۔جب کوفے آئے مکان بند پایا۔خولی سر ِمبارک لیکر گھر آیا اور اپنی عورت نوارسے کہا:'' میں تیرے لئے وہ چیز لایا ہوں جو عمر بھر کو غنی کردے۔'' اس نے پوچھا: ''کیا ہے؟''کہا ''حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسر'' بولی: ''خرابی ہو تیرے لئے ،لوگ چاندی سونا لے کر آتے ہیں اور تُورسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹے کا سرلایا ۔خداکی قسم !میں تیرے ساتھ کبھی نہ رہوں گی ۔'' یہ بی بی کہتی ہے :'' میں نے رات بھر دیکھا کہ ایک نورِ عظیم سرِمبارک سے آسمان تک بلند ہے اور سپید پرندسرِ اقدس پر قربان ہورہے ہیں ۔''
(المرجع السابق،ص۴۳۴)