تاریکی کے بادل فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چاندپر چھا گئے ۔زرعہ بن شریک تمیمی نے بائيں شانہ مبارک پر تلوار ماری ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھک گئے ہیں ....زخموں سے چور ہیں....۳۳زخم نیزے کے ۳۴ گھاؤ تلواروں کے لگے ہیں ....تیروں کا شمار نہیں....اٹھنا چاہتے ہیں اورگرپڑتے ہیں ....اسی حالت میں سنان بن انس نخعی شقی ناری جہنمی نے نیزہ مارا کہ وہ عرش کاتارا زمین پرٹوٹ کر گرا....سنان مردودنے خولی بن یزید سے کہا:سرکاٹ لے ۔اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا:''تیراہاتھ بےکارہو'' اور خودگھوڑے سے اترکر محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے ،تین دن کے پیاسے کوذبح کیا اورسرمبارک جداکرلیا ۔شہادت جو دلہن بنی ہوئی سرخ جوڑا،جنتی خوشبوؤں سے بسائے اسی وقت کی منتظر بیٹھی تھی ،گھونگھٹ اٹھا کربے تابانہ دوڑی اور اپنے دولھا حسین شہیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گلے میں باہیں ڈال کر لپٹ گئی ......