Brailvi Books

آئینہ قیامت
85 - 100
تاریکی کے بادل فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چاندپر چھا گئے ۔زرعہ بن شریک تمیمی نے بائيں شانہ مبارک پر تلوار ماری ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھک گئے ہیں ....زخموں سے چور ہیں....۳۳زخم نیزے کے ۳۴ گھاؤ تلواروں کے لگے ہیں ....تیروں کا شمار نہیں....اٹھنا چاہتے ہیں اورگرپڑتے ہیں ....اسی حالت میں سنان بن انس نخعی شقی ناری جہنمی نے نیزہ مارا کہ وہ عرش کاتارا زمین پرٹوٹ کر گرا....سنان مردودنے خولی بن یزید سے کہا:سرکاٹ لے ۔اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا:''تیراہاتھ بےکارہو'' اور خودگھوڑے سے اترکر محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے ،تین دن کے پیاسے کوذبح کیا اورسرمبارک جداکرلیا ۔شہادت جو دلہن بنی ہوئی سرخ جوڑا،جنتی خوشبوؤں سے بسائے اسی وقت کی منتظر بیٹھی تھی ،گھونگھٹ اٹھا کربے تابانہ دوڑی اور اپنے دولھا حسین شہیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گلے میں باہیں ڈال کر لپٹ گئی ......
فَصَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلاَنَا مُحَمَّدٍوَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ 

وَلَعْنَۃُ اللہِ عَلٰی اَعْدَائِہٖ وَاَعْدَائِھِمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
    اس پربھی صبر نہ آیا ،امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لباس مبارک اتارکر آپس میں بانٹ لیا۔ عداوت کی آگ اب بھی نہ بجھی ،اہل بیت علیہم الرضوان کے خیموں کو لوٹا ،تمام مال اسباب اورمحمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صاحبزادیوں کا زیور اتارلیا ،کسی بی بی کے کان میں ایک بالی بھی نہ چھوڑی۔ 

    اللہ عزوجل واحد قہارکی ہزارہزار لعنتیں ان بے دینوں کی شقاوت پر ،زیوردرکنار اہل بیت کے سروں سے ڈوپٹے تک ........،اب بھی مردودوں کے چین نہ پڑا ،ایک
Flag Counter