ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں اکیلا کر کے لایا ہے، نرغہ ہوا ۔امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ داہنی طرف حملہ فرماتے تودورتک سواروں اور پیادوں کا نشان نہ رہتا ،بائیں جانب تشریف لے جاتے تودشمنوں کو میدان چھوڑ کربھاگنا پڑتا ۔
خداکی قسم!وہ فوج اس طرح ان کے حملوں سے پریشان ہوتی جیسے بکریوں کے گلہ پرشیر آپڑتا ہے ،لڑائی نے طول کھینچا ہے ،دشمنوں کے چھکے چھوٹے ہوئے ہیں، ناگاہ امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھوڑابھی کام آگیا ،پیادہ ایسا قتال فرمایا کہ سواروں سے ممکن نہیں ۔
تین دن کے پیاسے تھے ایک بدبخت نے فرات کی طرف اشارہ کر کے کہا:''وہ دیکھئے کیساچمک رہا ہے ،مگرتم اس میں سے ایک بوند نہ پاؤگے یہاں تک کہ پیاسے ہی مارے جاؤ گے ۔''فرمایا:''اللہ!عزوجل تجھ کو پیاسا قتل کرے ۔''فوراً پیاس میں مبتلا ہوا، پانی پیتا، پیاس نہ بجھتی یہاں تک کہ پیاساہی مرگیا ۔حملہ کرتے اور فرماتے:'' کیا میرے قتل پر جمع ہوئے ہو ؟ہاں ہاں،خداکی قسم !میرے بعدکسی کو قتل نہ کروگے ،جس کا قتل میرے قتل سے زیادہ خداعزوجل کی ناخوشی کا سبب ہو ،خداکی قسم !مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ذلت سے مجھے عزت بخشے اورتم سے وہ بدلہ لے جوتمہارے خواب و خیال میں بھی نہ ہو،خداکی قسم !تم مجھے قتل کرو گے تو اللہ عزوجل تم میں پھوٹ ڈالے گا اور تمہارے خون بہائے گا اور اس پرراضی نہ ہو گا ،یہاں تک کہ تمہارے لئے دکھ دینے والا عذاب چند درچند بڑھائے گا۔''