Brailvi Books

آئینہ قیامت
83 - 100
خون بھرنے کی باری ہے۔
بچہ ناز رفتہ باشد زجہاں نیاز مندے 

کہ بوقتِ جان سپردن بسرش رسیدہ باشی
    (یعنی تیرے نیاز مند نے جہان سے کس نازوانداز سے کوچ کیا ہوگا جب جاں سپاری کے وقت تو اس کے سرہانے موجود ہوگا۔)

    غرض آج کربلامیں حسینی میلا لگا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔حوروں سے کہوکہ اپنی خوشبودار چوٹیاں کھول کر کربلا کا میدان صاف کریں کہ تمہاری شہزادی ،تمہاری آقائے نعمت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لال کے شہید کرنے اورخاک پر لٹائے جانے کا وقت قریب آگیا ہے ۔۔۔۔۔۔رضوان کو خبردوکہ جنتوں کوبھینی بھینی خوشبوؤں سے بسا کر دلکش آرائشوں سے آراستہ کر کے دلہن بنارکھے کہ بزمِ شہادت کادولھا بہتے خون کا سہرا باندھے زخموں کے ہار گلے میں ڈالے عنقریب تشریف لانے والا ہے ۔
ساعت آہ وبکا و بے قراری آگئی 

سیدِ مظلوم کی رن میں سواری آگئی 

ساتھ والے بھائی بیٹے ہو چکے ہیں سب شہید 

اب امامِ بے کس و تنہا کی باری آگئی
    امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شمر خبیث کو خیمۂ اطہر کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کرفرمایا:'' خرابی ہو تمہارے لئے اگردین نہیں رکھتے اور قیامت سے نہیں ڈرتے توشرافت سے تو نہ گزرو،میرے اہل بيت علیہم الرضوان سے اپنے جاہل سرکشوں کو روکو،دشمن ادھر سے بازرہے ۔'' اب چارطرف سے امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، جنہیں شوقِ شہادت
Flag Counter